ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / منگلورو:ضلع میں عورتو ں کی شرح میں کمی پر ڈی سی کا تاسف: جنس کا پتہ لگانے والے مراکز پر کڑی نگرانی کے احکامات جاری

منگلورو:ضلع میں عورتو ں کی شرح میں کمی پر ڈی سی کا تاسف: جنس کا پتہ لگانے والے مراکز پر کڑی نگرانی کے احکامات جاری

Thu, 16 Feb 2017 22:00:19    S.O. News Service

منگلورو:16/فروری    (ایس او نیوز) دکشن کنڑا ضلع میں آبادی کے لحاظ سے مردوں اور عورتوں کا موازنہ کریں توعورتوں کی شرح میں کمی ہونے پر ضلع ڈی سی ڈاکٹر کے جی جگدیش نے تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ زچگی سے پہلے جنس کا پتہ لگانے والوں کے خلاف کڑی نگرانی کرتے ہوئے سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ڈی سی دفتر میں منعقدہ قومی صحت عامہ ابھیان سمیتی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے وہ اپنے خیالات اظہار کررہے تھے۔ ڈی سی نے میٹنگ میں جانکاری دیتے ہوئے بتایاکہ ضلع میں 1000مردوں پر عورتوں کی شرح 948ہے، اس کو مساوی کرنےکے لئے جہاں جنس کا پتہ لگائی گئی پابندی پر سختی سے عمل آوری کی نگرانی کرنی ہے وہیں جاری اسکینگ سنٹرس ، اسپتال کے اسکینگ مشینوں پر بھی کڑی نگاہ رکھنی ہوگی۔ اس کے علاوہ محکمہ صحت عامہ کے افسران کو ہدایات دی کہ وہ ضلع میں کسی بھی نئے اسکینگ سنٹر کو منظوری نہ دیں۔

ڈی سی نے میٹنگ میں اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ دکشن کنڑا ضلع میں بہتر طبی سہولیات ہونے کے باوجود زچگی کے دوران ، زچگی کے بعد بھی کئی مائیں ہلاک ہونے کے واقعات ہورہے ہیں جو  قابل تشویش ہے۔ اس سے قبل منعقد ہوئی میٹنگوں میں زچگی کے دوران اپنائے جانے والے احتیاطی تدابیر کے متعلق جانکاری دی گئی ہے، اس کے باوجودماؤں کی ہلاکت کے واقعات کا ہونا ہمارے اسپتالوں میں صحیح سہولیات کے فقدان  کو واضح کرتاہے۔ انہوں نے ہدایت جاری کی کہ  اگرسرکاری اسپتالوں میں زچگی کے دوران سنگینی کا خطرہ ہے تو وقت سے پہلے انہیں کسی ملٹی اسپشالسٹ یا خانگی اسپتالوں کو منتقل کریں، اس تعلق سے انہوں نے جانکاری دی کہ ایسا کرنے پر اس کے اخراجات سرکار خود اداکرے گی ۔ زچگی کے دوران حاملہ کو خون کی ضرورت ہونے پر گھروالوں کو پریشان یا ہراساں نہ کریں بلکہ خود اسپتال والے اس کا انتظام کریں۔ ڈی سی نے پتور کے سرکاری اسپتال میں 25نومبر 2016کو فاطمہ زہرہ نامی حاملہ عورت کے بچے کو جنم دینے کے بعد خون رساؤ ہونے کی وجہ سے فوت ہونے پر سخت افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس معاملہ میں اسپتال کے منتظمین کی لاپروائی  ظاہر ہورہی ہے  اس معاملے کو لے کر فوری طورپر رپورٹ سونپنے صحت عامہ کے افسران کو تاکید کی۔زچگی کے دوران ماں یا بچہ ہلاک ہوتے ہیں تو ان کے خلاف سخت کارروائی کئے جانے کا انتباہ دیا۔

میٹنگ کے دوران اینڈوسلفان سے متاثرین کی بازآبادکاری کا جائزہ لینے کے بعد ڈی سی نے کہاکہ متاثرین کی مستقل بازآبادکاری کے لئے 10.30کروڑ روپیوں کی رپورٹ حکومت کو پیش کی جاچکی ہے۔ ضلع میں 2998متاثرین کو ماہانہ وظیفہ دیا جارہاہے، 4موبائیل صحت عامہ کے مراکز کے لئے ٹینڈر بلایا گیا ہے۔ متاثرین کو فزیوتھیراپی سے علاج کرنے کے لئے وٹلا، موڈبیدرے ، پتور ، سلیا اور بیلتھنگڈی کے سرکاری اسپتالوں میں فزیوتھیراپی مرکز شروع کئے گئے ہیں۔ میٹنگ میں ضلع پنچایت ایگزکیٹیو آفیسر ڈاکٹر ایم آر روی ، اپر ڈی سی کمار، ضلعی میڈیکل آفیسر ڈاکٹر رام کرشنا راؤ ، پتور اے سی رگھونند ن مورتی ، وینلاک کی ڈائرکٹر ڈاکٹر راجیشوری دیوی سمیت مختلف محکمہ جات کے افسران   وغیرہ موجود تھے۔


Share: